رابطہ فورم انٹرنیشنل کے زیراہتمام سیمینار سقوطِ ڈھاکہ اور سانحہ آرمی پبلک اسکول

مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں غیروں کے ساتھ اپنوں کا بھی کردار تھا، آرمی پبلک اسکول کے طلبا و اساتذہ ملک کی خاطر شہید ہوئے، علامہ سید افتخار حسین نقوی، آرمی چیف کی طرف سے سانحہ مشرقی پاکستان کے غازیوں کی خدمات و قربانی کا اعتراف قابل تحسین ہے، نصرت مرزا، مشرقی پاکستان کی علیحدگی اقتدار پرست اشرافیہ کی وجہ سے ہوئی، پروفیسر سیما ناز صدیقی، سقوط ڈھاکہ کے ذمہ داروں کا تعین ہوجاتا تو آرمی پبلک اسکول جیسا سانحہ نہیں ہوتا، ڈاکٹر ثمر سلطانہ، مشرقی پاکستان جیسا سلوک سندھ کے شہروں کے ساتھ کیا جانا قابل مذمت ہے، شمعون ابرار، محرومی انسان کو دشمن کا آلہ کار بنا سکتی ہے، امت غربت کو دور کرے، شیخ ابوخالد المدنی، مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں ذوالفقار علی بھٹو کا کلیدی کردار تھا، شاہین خان ایڈووکیٹ، تزویراتی اہمیت کے باعث پاکستان کے خلاف سازشیں جاری ہیں، طارق شاداب، بنگال میں 1946ء کے فسادات تقسیم ہند کا بنیادی سبب بنے، اس خطے کا پاکستان کے قیام میں اہم کردار رہا، انیس شیخ، پاکستان کی بقا و سلامتی کے لئے اب بھی بہاریوں کا لہو حاضر ہے، علیم النساء ایڈووکیٹ

رپورٹ: سید زین العابدین
علامہ سید افتخار حسین نقوی
سانحہ مشرقی پاکستان المیہ تھا، پاکستان کی تکمیل برصغیر کے مسلمانوں کی کاوشوں کا نتیجہ تھی، دشمن نے اس تقسیم کو قبول نہیں کیا تھا اس لئے سازشوں کا سلسلہ جاری رکھا، البتہ یہ افسوسناک بات ہے کہ ہمارے اپنے بھی دانستہ یا نادانستہ اس کا حصہ بن گئے، پاکستان اپنے قیام کے ابتدائی دو عشروں میں جس طرح صنعتی، عسکری اور زراعی طور پر آگے بڑھ رہا تھا وہ عالمی ساہوکاروں کے لئے ناقابل برداشت نہیں تھا، 1965ء کی جنگ میں خود سے پانچ گنا زائد عسکری طاقت رکھنے والے ملک کو شکست دینا اس بات کی دلیل تھی کہ پاکستان خطے کا ایک طاقتور ملک بن جائے گا، ہمارا راستہ روکنے کے لئے سانحہ مشرقی پاکستان کا المیہ کیا گیا، افسوس کی بات یہ ہے کہ 50 سال گزرنے کے بعد اس کے ذمہ داروں کا تعین نہ ہوسکا، اسی طرح آرمی پبلک اسکول کا سانحہ بھی ہماری تاریخ کا دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، ان سب سانحات کے اسباب پر غور کریں گے تو مستقبل میں سازشوں سے بچ سکیں گے۔
نصرت مرزا (چیئرمین رابطہ فورم انٹرنیشنل)
مشرقی پاکستان کے سانحے کو 50 برس بیت گئے۔ یہ ایک زخم تھا جو آج تک مندمل نہیں ہوسکا، اُس دن ہر پاکستانی دُکھی تھا، لوگوں کے گھروں میں تین دن تک کھانا نہیں پکا، یہ پاکستانی قوم کے لئے المیہ تھا، اغیار کی سازش کے علاوہ اپنوں کی اقتدار سے دلچسپی بھی باعث بنی، جنرل یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو، شیخ مجیب الرحمن مرکزی کردار تھے جبکہ جنرل ایوب خان کے دور میں اس کی بنیاد ڈالی گئی، مشرقی پاکستانیوں کی محرومی بڑھتے بڑھتے علیحدگی تک پہنچ گئی، ان حالات میں بہاری قوم پاک فوج کے ساتھ ڈٹی ہوئی تھی، قربانیاں دے رہی تھی، گزشتہ دنوں ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پروگرامز کا انعقاد کروایا، ہم انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، پاکستان میں اب بھی اُردو بولنے والوں کو تسلیم نہیں کیا جارہا، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ دھمکیاں دے رہے ہیں، سندھ کو علیحدگی کی طرف لے جانا ناقابل برداشت ہے۔ 16 دسمبر 2014ء کو ایک اور سانحہ آرمی پبلک اسکول کی صورت میں ہوا جس سے ہمارے زخم مزید گہرے ہوگئے۔
پروفیسر سیما ناز صدیقی
(چیئرپرسن شعبہ ارضیات، وفاقی اُردو یونیورسٹی)

جو قوم تاریخ کو بھلا دیتی ہے اس قوم کا جغرافیہ باقی نہیں رہتا، مشرقی پاکستان اور آرمی پبلک اسکول کا سامحہ ہماری تاریخ کا دو سیاہ باب ہیں، ان سانحات سے ہمیں جو سیکھنا چاہئے افسوس کہ ایسا نہیں ہوسکا، قومی سانحات کو بھلانا یا نظرانداز کر دینا ہماری عادت بن گئی ہے، لیاقت علی خان کا قتل ہو یا بینظیر بھٹو کی شہادت ان کے حقائق ابھی تک منظرعام پر نہیں لایا جاسکا، ایک نہ ایک دن یہ سب کچھ سامنے آئے گا۔ بقول شاعر ؎
حادثے سے بڑا سانحہ یہ رہا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
چھ دسمبر 1906ء کو نواب سلیم اللہ خان نے مسلم لیگ کی بنیاد ڈھاکہ میں ہی ڈالا تھا اور مولوی فضل الحق ہی نے 23 مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان پیش کی تھی، پھر کیا ہوا کہ یہ لیڈران آزادی کے صرف 24 برس بعد ہی ہم سے الگ ہوگئے اور بنگلہ دیش بن گیا، ہمیں اپنی کوتاہیوں پر غور کرنا چاہئے، سیاستدان اقتدار کے لئے ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہے تھے، 56 فیصد بنگالی بھائیوں کا مینڈیٹ کیوں نہیں تسلیم کیا گیا، نتیجہ ہمارے سامنے ہے، سول اور ملٹری بیوروکریسی کے حقارت آمیز رویہ بھی وجہ بنا، بیوروکریسی میں 15 فیصد کوٹہ مختص کرکے اور سرکاری دفاتر میں اُردو کے نفاذ سے بنگالی بھائیوں کی دل شکنی کی گئی، ستار بنگلہ کی رٹ نہیں تو اچھی لگتی تھی مگر اقتدار میں ان کی شراکت برداشت نہیں تھی، دشمن کی سازش اپنی جگہ لیکن اپنی غلطیوں پر غور کرنا چاہئے، ”را“ کامیاب ہوئی، اب بھی دشمن ملک کی ایجنسی اپنے مذموم عزائم میں مصروف ہے، بلوچستان میں محرومی کی بات ہورہی ہے، ہجرت کرکے آنے والوں کو سن آف سوئل تسلیم نہیں کیا جارہا، دہشت گردی فروغ پا رہی ہے، خیبرپختونخوا میں سیکورٹی مسائل بڑھ رہے ہیں، آرمی پبلک اسکول کا سانحہ بھی قومی حوالے سے اندوہناک ہے لیکن سانحات قوموں کو اٹھانے کا سبب بنتے ہیں، جرمنی اور جاپان کی مثال سامنے ہے لیکن افسوس کے ہم ان سانحات سے کچھ نہیں سیکھ سکے۔
ڈاکٹر ثمر سلطانہ
(چیئرپرسن شعبہ سیاسیات، جامعہ کراچی)

پاکستان کا قیام مسلمانوں کی جدوجہد کا نتیجہ تھا، دوسری بات یہ تھی کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام میں یہ بات واضح کی گئی تھی کہ ہم حکومت سے بغاوت نہیں کرنا چاہتے مگر ہمارے حقوق کا تحفظ کیا جائے، برصغیر کے سارے مسلمان یکسو تھے، مسلمانوں کا یہی اتحاد دشمن کے لئے خطرے کا باعث تھے، 1916ء میں آل انڈیا کانگریس مجبور ہو کر لکھنو پیکٹ کتی ہے پھر 1936ء اور 1945ء کے انتخابات میں واضح کامیابی یہ ثابت کر گئی کہ اتحاد کامیابی کا باعث بنتا ہے، یہ اتحاد جب تک قائم رہا ملک یکجا رہا جب دراڑیں پڑیں تو سانحہ مشرقی پاکستان جیسا المیہ ہوا، سقوط ڈھاکہ سے یہ ثابت ہوگیا کہ ہم شکست سے دوچار ہوسکتے ہیں، اس سے پانچ سال قبل ہم دشمن کے لئے ناقابل شکست تھے، 1971ء کی جنگ میں روس بھارت کا معاہدہ کا بھی کردار تھا جو پاکستان کے خلاف گیا۔ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی کا بھی کلیدی کردار رہا، سقوط ڈھاکہ کے اسباب پر اور ذمہ داروں کا تعین کرلیا جاتا تو سانحہ آرمی پبلک اسکول نہیں ہوتا۔ بھارت میں کوئی واقعہ ہوتا ہے تو فوراً الزام پاکستان پر لگا دیا جاتا ہے جبکہ ہمارے بڑے سانحات میں دشمن کا کھلا ہاتھ نظر آ رہا ہے مگر کوئی اس کا نام نہیں لے رہا، نہ جانے ہمیں کس کا خوف ہے، سندھ کے مسئلہ کا حل یہ ہے کہ بلدیاتی ایڈمنسٹریٹر کو مضبوط کریں گے تو سب کے شکوے دور ہوسکتے ہیں۔
شمعون ابرار (آرگنائزر فرزندِ سرزمین پارٹی)

تئیس مارچ 1971ء کو مجیب الرحمن نے اعلان کیا کہ پاکستان کا جھنڈا نہ لہرانے کا اعلان کردیا لیکن وہاں موجود بہاریوں، مدارس، پٹھانوں، پنجابیوں نے پرچم لہرا کر دکھایا، نتیجتاً بنگالیوں نے ان آبادیوں پر حملہ کردیا لیکن مقامی لوگوں نے خوب مقابلہ کیا اور حملہ آوروں کو بھاگنا پڑا، اب جو لوگ محصورین ہیں ان کے کچھ رشتہ دار پاکستان اور بھارت میں ہیں، یہ رولنگ کلاس ہے جس نے تقریباً 800 سال ہندوستان پر حکومت کی تھی، اس کی سزا انہیں دی جارہی ہے، پاکستان میں فیوڈلز کا غلبہ رہا، لیاقت علی خان کا قتل ہوا، سہروردی کو جانا پڑا، مولوی تمیز الدین کو سائیڈلائن کردیا گیا، یہ سب کچھ ایک ایجنڈے کے تحت کیا گیا، اُردو کا بہا نہ بنا کر نقصان پاکستان کا کیا گیا، سازش کا ایک سلسلہ جاری ہے لیکن ہمیں اس کو سمجھتے ہوئے اس کا سدباب کرنا ہوگا، بھارت، اسرائیل تو ازلی دشمن ہیں لیکن جو ہماری صفوں میں ہیں اس کے خلاف یہی کچھ کراچی اور سندھ کے شہروں میں ہورہا ہے، دانستہ محرومی کو پروان چڑھایا جارہا ہے، پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کے ساتھ قوم پرستی کی جارہی ہے، اسی طرح آرمی پبلک اسکول کا سانحہ بھی اندوہناک ہے جن کے شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں۔ پاک فوج نے 50 برس بعد مشرقی پاکستان کے وار ویٹرنز کے لئے پروگرام منعقد کئے جس پر ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔
شیخ ابو خالد المدنی
نبی کریمؐ کا ارشاد ہے کہ ”انسان کی جسم کا آرگن دل اگر ٹھیک ہوجائے تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا“۔ مختلف واقعات میں اگر قوم کا زوال ہوتا ہے تو اس میں ہمارے لئے سبق ہے، احساس محرومی ایک خطرناک عنصر ہوتا ہے، اس کا سدباب کرنا چاہئے، موجودہ دُنیا میں معاشی جنگ ہورہی ہے، امت مسلمہ غربت میں ڈوب رہی ہے، یہی دشمن کا ایجنڈا ہے، خصوصاً پاکستان ہدف پر ہے، عرب ملکوں کی اُمید پاکستان بن گیا تھا لیکن دشمنوں نے اس کے خلاف سازش کی اور ہمارے درمیان غلط فہمیاں پیدا کردیں، کوتاہی ہماری بھی ہے ہم نے ارشاد ختمی مرتبتؐ، احکام الٰہی اور قرآن کو چھوڑ دیا، جس کے نتیجے دشمن حاوی ہورہا ہے، احساس محرومی کا تعلق حب الوطن سے ہوتا ہے، اگر انسان محرومی کا شکار ہے تو دشمن کے بہکاوے میں آنے کا امکان ہوتا ہے۔
شیخ طارق شاداب
پاکستان کیسے بنا کیسے ٹوٹا یہ ہم جانتے ہیں بلکہ کس طرف جارہا ہے یہ بھی ہم جانتے ہیں، ماضی میں ہمیں کہا جاتا تھا کہ روس ہماری طرف آ رہا ہے، اُس زمانے میں اتنا میڈیا نہیں تھا، افغانستان کے ذریعے پاکستان آئے گا، اُس زمانے میں ایک نعرہ لگا روسیوں کا قبرستان پاکستان پاکستان، آج امریکا آ رہا ہے، برطانیہ آ گیا، روس افغانستان کی جنگ ہم لڑے اور اُسے شکست دی جس کے بعد اس کے حصے بخرے ہوگئے، پولینڈ کے کسی لیڈر سے پوچھا گیا کہ آپ کو روس نے کیسے قابو کرلیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پڑوس میں کوئی پاکستان نہیں تھا، اس طرح پاکستان بین الاقوامی سیاست کا ایک اہم ملک ہے، بنگلہ دیش کا سانحہ ہمیں کمزور کرنے کے لئے ہوا، پاکستان اس وقت تیزی سے ترقی کررہا تھا، دشمن کی سازش کے ساتھ ہماری غلطیاں بھی عروج پر رہیں، جس کا خمیازہ ہم نے بھگتا، 50 برس گزرنے کے بعد بھی ہم محصورین کے لئے کچھ نہ کرسکے، بڑے دعوے ضرور کئے گئے لیکن ان لوگوں کی قدر نہیں کرسکے جو خود ایک المیہ ہے۔
شاہین خان ایڈووکیٹ
ہمیں ان سانحات کے اسباب پر غور کرنا چاہئے، مشرقی پاکستان کے سانحہ سے قبل ہم 1965ء میں دشمن سے جنگ جیتے ہیں اور پھر مشرقی پاکستان علیحدہ ہوجاتا ہے، ذوالفقار علی بھٹو کی خودپسندانہ سوچ کی وجہ سے پاکستان دو ٹکڑے ہوا، اس سانحے کے بعد دُنیا نے بھی ہم پر توجہ دینا ہوگی، غم حسین ؑ کے بعد مسلم قوم کا سانحہ مشرقی پاکستان ہے، کراچی کے حالات دیکھ لیں کس طرح حق تلفی کی جارہی ہے، فوج بہاری قوم کو خراج تحسین پیش کررہی ہے، 50 سال بعد یہ خیال آیا چلیں اس کو ہم سراہتے ہیں مگر اس وقت کراچی کے لوگوں کے ساتھ عوامی مینڈیٹ کے نام پر سندھ اسمبلی کررہی ہے، اس کا نوٹس لیں، نئے راستے کھولنے پڑیں گے، بین الاقوامی طور پر جب ہم کوئی کام کرتے ہیں تو آپ کو نتیجتاً بھیک دی جاتی ہے، کراچی کے معاملات میں فوج کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، اگر آپ نے نہیں دیکھا تو حالات خراب ہوں گے، اسی طرح آرمی پبلک اسکول کا افسوسناک سانحہ ہوا مگر آج تک اس کے اصل ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوسکا، اگر بھارت کا کردار تھا تو اس کا کھل کر اظہار کرنا ہوگا، کیا ہمارے طالب علموں کا خون اتنا سستا تھا کہ قاتلوں کا نام بھی نہیں لے سکتے، ہمارے سیکورٹی اثاثہ جات کا کیا فائدہ کہ ہم دشمن کی بالادستی کو تسلیم کرلیِں، یہ رویہ ناقابل برداشت ہے، ہمیں ہر کوتاہی پر توجہ دینا ہوگی، پاکستان کے مخلص غدار اور جن کے آباواجداد غدار تھے ان کی اولادیں محب وطن اور اقتدار پر حاوی ہیں، یہ ناانصافی ہے، بلوچستان کی بڑھتی محرومیاں بھی الارم ہیں، اسباب پر غور کرکے اس کا سدباب ہونا چاہئے۔
انیس شیخ (ڈپٹی آرگنائزر فرزندِ سرزمین پارٹی)
جب آل انڈیا مسلم لیگ بنی تو سر علی امام اس کے بانیوں میں سے تھے، 1946ء اکتوبر کے فسادات نہ ہوتے تو پاکستان بنتا ہی نہیں، کیونکہ 1945ء کے انتخابات جو 1946ء تک جاری رہے، اُس کے بعد انگریزوں نے ہندو اور مسلمانوں کو یہ کہہ دیا تھا کہ آپ مل کر حکومت کریں، کریس مشن نے تقسیم ہند سے انکار کردیا تھا لیکن بنگال کے فسادات نے تقسیم کی بنیاد رکھی جس میں بے شمار لوگ مارے گئے، اسی وقت راولپنڈی میں بھی فسادات ہوئے تھے، اسے بھی تقسیم کا جواز بنایا جاتا ہے لیکن بنگال کے فسادات اتنے اندوہناک تھے کہ گاندھی جی جب وہاں گئے تو وہ دھاڑیں مار کر روئے، یہ فسادات ایک ٹریننگ پوائنٹ تھے، اس لئے بہار کے لوگوں کی پاکستان بنانے اور قائم رکھنے میں قربانیاں سب سے زیادہ ہیں لیکن پھر ملک بننے کے 26 برس بعد ہی بنگال کے لوگ پاکستان سے علیحدہ ہوجاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اغیار کی سازشوں کے ساتھ اپنوں کی کوتاہیاں اور غلطیاں بھی ہیں۔
علیم النساء ایڈووکیٹ
مشرقی پاکستان میں بہاری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہی تھی، اب بھی ملک و قوم کی خاطر ہمارا لہو حاضر ہے، اس سانحے میں ہماری غلطیوں کے ساتھ دشمن کی سازشیں بھی کارفرما تھیں، ہمیں ان کے سدباب پر غور کرنا چاہئے، ماضی کی ناانصافیوں اور محرومیوں کا ازالہ کرنا چاہئے، دشمن تو سازش کرتا ہے ان سازشوں کا قلع قمع کرنے پر سوچ و بچار اور حکمت عملی بناناچاہئے، آج 50 برس بعد پاک فوج نے بہاری قوم کے غازیوں اور شہداء کو خراجِ تحسین پید کیا، اب یہ ہونا چاہئے کہ محصور بنگلہ دیشیوں کو پاکستان میں لا کر بسانا چاہئے تاکہ ماضی کی کوتاہیوں کا ازالہ ہوسکے۔ آرمی پبلک اسکول کے سانحے میں شہید ہونے والے بچوں کی ماؤں کو سلام پیش کرتی ہوں لیکن اس سانحے کے ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچانا چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.