رابطہ فورم انٹرنیشنل کے زیراہتمام سیمینار یومِ دفاعِ پاکستان۔۔ فتح مبین

انیس سوپینسٹھ ء کی جنگ میں فوج اور عوام نے مل کر دشمن کو شکست دی، ایڈمرل (ر) آصف ہمایوں
ہم نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا، اب بھی دشمن کو خاک چٹانے کیلئے تیار ہیں، بریگیڈیئر (ر) کرار حسین
آزادی ایک نعمت ہے جس کی حفاظت خون سے کی جاتی ہے، پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد
بھارت نے سیاسی بدامنی کا رخ موڑنے کیلئے جنگ کا محاذ کھولا مگر خاک چاٹنے پر مجبور ہوا، ڈاکٹر ثمر سلطانہ
انیس سوپینسٹھء کی جنگ پاکستان کی کامیابیوں کو روکنے کے لئے کی گئی تھی، نصرت مرزا

رابطہ فورم انٹرنیشنل کے زیراہتمام 1965ء کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔ وائس ایڈمرل آصف ہمایوں، بریگیڈیئر ریٹائرڈ کرار حسین، پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد، ڈاکٹر ثمر سطانہ اور رابطہ فورم انٹرنیشنل کے چیئرمین نصرت مرزا نے شہدا اور غازیوں کے کارناموں کو بیان کیا جبکہ معروف نعت خواں مہ رُخ ریاض نے ملی نغمے اور جنگی ترانے پیش کرکے حاضرین کے جوش و جذبے کو اُجاگر کیا ہے۔ اس موقع پر زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔
ایڈمرل (ر) آصف ہمایوں56 سال قبل دشمن نے ہمارے خلاف جسارت کی، یہ سلسلہ جنوری سے شروع ہوا تھا، رن آ کچھ کے علاقے میں دشمن نے پیش قدمی کی جس پر برطانیہ کے وزیراعظم نے اس میں اپنا کردار ادا کیا، جس سے تناؤ کم ہوا لیکن پھر دشمن نے دوسرے محاذ پر شرارت شروع کردی جس کے جواب میں ہماری بری فوج نے چھب اور جوڑیاں سیکٹرز پر قبضہ کرلیا تھا پھر کشمیر کی جانب سے بھی دشمن کو بھرپور جواب دیا گیا، ہماری ایئرفورس کی طرف سے بھی دشمن کو بھرپور جواب دیا گیا، ہماری ایئرفورس نے 3 سے 4 ستمبر کو دشمن پر اپنی برتری ثابت کرچکی تھی، بلکہ فضا میں ہماری ایئر فورس کی واضح برتری تھی کیونکہ دشمن نے لاہور کے محاذ کو آسان سمجھ کر حملہ کردیا کہ آدھی رات کے وقت سے فائدہ اٹھایا جائے لیکن دشمن کو کیا معلوم تھا کہ اُسے منہ کی کھانا پڑی، پھر باٹا کے پل کی جانب سے لاہور کا رخ کیا لیکن ہمارے میجر راجا عزیز بھٹی نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ دشمن کے چار سے پانچ ٹینک تباہ کردیا تھا، 6 سے 7 ستمبر کو ہماری فضائیہ اور بھارتی ایئرفورس کے درمیان ڈاگ فائٹ ہوئی جسے پورا لاہور گھروں سے باہر نکل کر دیکھا، پھر سرگودھا کی فضا میں ایم ایم عالم نے ایک منٹ میں پانچ دشمن کے جہاز گرا کر اپنی دھاک بیٹھا دی، اس طرح سندھ میں راجھستان کے 1000 کلومیٹر کے علاقے پر قبضہ کرلیا، اسی طرح ہماری نیوی کو حکم ملا کہ دوارکا کو نشانہ بنائیں، ہمارے سات جہاز تھے جن کا لشکر دشمن کو سبق سکھانے نکلا اور کامیاب مشن سے واپس آئے، پھر ہم نے بھارتی جہاز کو پکڑا اور اُسے کراچی کی بندرگاہ پر لے آئے، مسلح افواج کے ساتھ عوام کا جذبہ بھی مثالی تھا، ہر شعبے کا آدمی اپنا کردار ادا کررہا تھا، مائیں بہنیں دعائیں کررہی تھیں تو بزرگ اپنے جوانوں کی فتح کے لئے سجدہ ریز تھے۔
بریگیڈیئر (ر) کرار حسین
سیالکوٹ کا محاذ بھی بہت اہم رہا، تقسیم کے وقت گورداس پور کا علاقہ کشمیر کی وجہ سے بھارت کو دے دیا گیا، دشمن نے سوچا کہ سیالکوٹ پر قبضہ کرکے کشمیر تک جانے والی راہداری کلیئر ہوجائے گی لیکن چونڈہ کے محاذ پر دنیا کی سب سے بڑی ٹینکوں کی لڑائی میں ہمارے جوانوں نے دشمن کو ایسی خاک چٹائی کہ وہ مثال بن گئی، بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا، یہ لڑائی 17 روز سے جاری تھی، ان محاذوں پر منہ کی کھانے کے باوجود بھارتی وزیراعظم نے اپنے آرمی چیف کو حکم دیا کہ لاہور پر قبضہ کرنا ہے لیکن 5 سے 6 ستمبر کی درمیانی رات دشمن کو لاہور کے محاذ پر بھی ایک ایسا سبق ملا جسے وہ آج تک نہیں بھول سکا۔ یہ سب ایک معجزہ تھا کیونکہ دشمن کئی گنا زیادہ طاقت رکھتا تھا لیکن ہمارے جوانوں کا جذبہ شجاعت حاوی رہا، یہ سب ہماری ماؤں کی تربیت کا نتیجہ ہے، سپاہیوں کے ساتھ ہمارے عوام بھی نڈر تھے، یہ سب کچھ بدر کا ہی تسلسل ہے، میں خود بھی سیاچن کے ٹھنڈے ترین اور چولستان کے گرم ترین محاذ پر خدمات انجام دے چکا ہوں لیکن کبھی کسی بھی مشکل سے گھبرائے نہیں کیونکہ نعرۂ تکبیر اور نعرۂ حیدری لگانے سے ہمارا ولولہ دوچند ہوجاتا ہے، جنرل اعجاز اعوان کو آپ ٹی وی پر دیکھتے رہتے ہیں ان کے والد بھی شہید سپاہی ہیں، لیکن جنرل اعجاز اعوان اور اپنے دوسرے بیٹوں کی یہ تربیت کی کہ جب بھی ملک کو ضرورت پڑے شہادت کے لئے تیار رہنا، یہ وطن ہمارے لئے ایک نعمت ہے جس کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے۔ اس موقع پر میں ایک نظم بھی پیش کرنا چاہتا ہوں۔
ڈاکٹر تنویر خالد
ہمارے لوگ جانتے ہیں کہ اپنے ملک کا دفاع کیسے کرنا ہے کیونکہ دشمن بہت شاطر ہے، ہمیں اپنے لوگوں کو جدید تعلیم کے ساتھ یہ بھی بتانا ہے کہ کیسے مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کرنا ہے، اس لئے کہ تعلیم کے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے، ہمیں اپنے اسلاف اور شہدا کو یاد کرنے کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا ہے کہ کیسے اس پاک سرزمین کا قرض ادا کرنا ہے، یقیناً کچھ کمزوریاں ہیں لیکن اُس پر قابو پایا جاسکتا ہے، ہمارے نوجوانوں کو تعلیم مکمل کرکے ایک توانا پھل دار درخت بننا ہے تاکہ آنے والی نسل کے لئے کچھ اسباب مہیا کرسکیں، اس جدید زمانے کے نوجوانوں کے پاس بڑے وسائل ہیں جس سے استفادہ حاصل کرنا چاہئے، دشمن صرف بھارت نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی ہیں، بھارت تو ابتدا ہی سے ہمارے خلاف جال بُن رہا ہے، اس کے علاوہ خطے کی صورتِ حال دیکھیں تو دوستی کے لبادے میں بھی دشمن موجود ہیں، ہمیں اپنے ملک کو آگے بڑھانا ہے، صرف تنقید اور شکوے شکایتیں ہی نہ کریں بلکہ مسائل کے سدباب کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ آزادی ایک نعمت ہے جس کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر ثمر سلطانہ
پاکستان بنتے وقت بھی پاک جذبے کی ضرورت تھی، اسے قائم رکھنے کے لئے بھی یہی جذبہ ہے، بھارت نے 1965ء کا محاذ کشمیر کی وجہ سے گرم کیا تھا، حالانکہ اس وقت کی ایوب حکومت کی اختلافی امور کو نہیں چھیڑنا چاہ رہی تھی کیونکہ سیٹو، سینٹو کے معاہدوں میں پاکستان بھی شامل ہوچکا تھا مگر دشمن ہمیشہ سے اس کوشش میں تھا کہ ہمیں کسی بھی طرح نقصان پہنچائے، اُس زمانے میں بھارت میں سکھوں کی تحریک چل رہی تھی، کانگریس حکومت کے خلاف ایک عوامی بے چینی پائی جاتی تھی، آنے والے انتخابات میں شکست سے خوفزدہ کانگریس قیادت نے جنگ کا محاذ کھول دیا، جنوری 1965ء سے محاذ پر ہماری فوج کے ساتھ جھڑپ چل رہی تھی، اس کے علاوہ دوسرے محاذ پر بھی چھوٹی موٹی لڑائیوں میں دشمن کو ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا تھا، اس لئے اس نے لاہور کا محاذ کھولا اور خواب دیکھا کہ زندہ دلوں کے شہر کو روند ڈالے گا مگر ہوا س کے برعکس ہمارے سپاہیوں نے جذبہ بدر کی یاد تازہ کرتے ہوئے دشمن کا غرور خاک میں ملایا، اگرچہ پاکستان میں بھی سیاسی حالات ایوب خان کے لئے موزوں نہیں تھے مگر جب دشمن نے حملہ کیا تو انہوں نے ایک تاریخی تقریر کی جس نے فوج اور عوام میں ایک جوش و جذبہ پیدا کردیا، انہوں نے بہت سی باتیں کیں مگر ایک جملہ تھا کہ دشمن کو بتا دیں گے کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے، ہمارا ملک لاالہ الااللہ کے نعرے کے ساتھ بنا ہے، ان کلمات نے پورے ملک کو متحد کردیا، جو سیاسی مخالفت تھی وہ بھی ختم ہوگئی، یوں قائداعظم کے فرمان یونٹی، فیتھ، ڈسپلن کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ہم نے دشمن کو سرپرائز دیا کیونکہ اُسے تو اپنی کامیابی کا یقین تھا کہ مگر کیا معلوم تھا کہ حربی سامان اور افرادی قوت کی کمی کے باوجود دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا، ہمارے دوست ملکوں ایران، ترکی نے حق دوستی ادا کیا، اردن نے اقوام متحدہ میں ہمارا بھرپور ساتھ دیا، انڈونیشیا تو اتنا فکرمند تھا کہ حملہ پاکستان پر نہیں بلہ اس پر ہوا ہے، اس کے علاوہ چین نے بھی ایک موقع پر بھارتی حکمرانوں کو شٹ اَپ کال دی جبکہ دوسری جانب امریکا نے ہماری عسکری امداد بند کردی تھی۔
نصرت مرزا
پاکستان بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا۔ آزادی کی جدوجہد میں جان و مال کی قربانی کے ساتھ عزت و ناموس پر بھی آنچ آئی، مگر برصغیر کے مسلمانوں کے پائے استقلال میں لرزش نہ آئی اور آر ایس ایس کے ہندو نیتاؤں کی تمام تر مخالفت و سازش کے باوجود ہم نے ایک علیحدہ وطن حاصل کرلیا۔ لیکن جو پھانس ہمارے مخالفین کے دلوں میں رہی اس کی چبھن اب بھی قرار ہے۔ طاقت کے نشے میں چور بدمست ہاتھی کی طرح دشمن نے ہم پر یلغار کی لیکن پھر اُسے منہ کی کھانا پڑی۔ ہماری افواج کی قلیل تعداد نے ایک مرتبہ پھر معرکہ بدر کی یاد تازہ کردی۔ دشمن کو کاری ضرب لگی۔ ہمارے بہادر سپاہیوں نے جرأت و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا مگر دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔ انہی شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے یہ محفل سجائی گئی ہے۔ ہمارے بہادر سپاہیوں کی جانب سے قربانی دینے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں بھی ہمارے شہدا نے شجاعت کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ جس جنگ میں بڑی طاقتیں ناکام رہیں اس میں ہمارے شیر دل جوان کامیاب رہے۔ مگر یہ دشمن پیٹھ پر حملہ کرتا ہے۔ چھپ کر حملہ آور ہوتا ہے۔ آج بھی مستونگ میں ہمارے جوانوں پر حملہ ہوا جس میں قیمتی جانیں چلی گئیں۔ ہم ان تمام شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ موجودہ حالات میں کشمیر کے محاذ پر اب ہماری بھرپور توجہ ہوگی کیونکہ افغانستان کا معاملہ طے ہونے کے مراحل میں ہے، طالبان نے 20 سالہ جنگ میں سپر پاور کو شکست دی ہے، بھارت کا ہندوتوا اپنے نقطہئ عروج پر ہے، میں دیوبند انڈیا سے کہتا ہوں کہ انہیں ہمت دکھا کر اٹھنا ہوگا، اسی طرح کشمیر کے لوگوں کو بھی جوانمردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیصلہ کن معرکہ کے لئے میدان میں آنا ہوگا۔ 1965ء کی جنگ میں صدر ایوب خان کے ساتھ اس وقت کے جنرل محمد موسیٰ کی سپہ سالاری کا بھی کمال تھا، انہوں نے ایک خاص حکمت عملی سے 5 گنا زیادہ دشمن سے مقابلہ کیا جس کا نتیجہ قوم کے سامنے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.