رابطہ فورم انٹرنیشنل کے زیراہتمام مذاکرہ قائداعظم حق و سچ کے علمبردار

زاویۂ نگاہ رپورٹ
قائداعظم کی 11 اگست کی تقریر کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ہندوؤں کو زبردستی مسلمان کیا جائے، ڈاکٹر حاجی حنیف طیب
قائداعظم ایک اسلامی فلاحی ریاست قائم کرنا چاہتے تھے، خواجہ رضی حیدر
مدینہ کی ریاست قائم کرنے کیلئے نیتوں کا ٹھیک ہونا ضروری ہے، ڈاکٹر تنویر خالد
رسول کریمؐ نے پہلے معاشرہ سازی پھر ریاست سازی کی طرف گئے، ڈاکٹر محسن نقوی
قائداعظم فلاحی اسلامی ریاست کے قائل تھے ملائیت سے دور تھے، ڈاکٹر ایس ایم طحہٰ
قائداعظم قرآن و سنت کے مطابق فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے، ڈاکٹر زاہد علی زاہدی
قائداعظم کی 11 اگست کی تقریر کے غلط مطالب نکالے گئے، نصرت مرزا

کراچی میں رابطہ فورم انٹرنیشنل کی جانب سے ’’قائداعظم حق و سچ کے علمبردار‘‘ کے عنوان سے مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔ سچ ٹی وی کراچی سینٹر میں ہونے والے اس مذاکرہ میں المصطفیٰ ویلفیئر کے سربراہ حاجی ڈاکٹر حنیف طیب نے کہا کہ برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے قائداعظم نے تحریک پاکستان کی قیادت کی، قائداعظم نے پیر مانکی شریف میں علما سے ملاقات میں کہا کہ وہ ایک اسلامی فلاحی ریاست کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، قائداعظم محمد علی جناح کی تقریر کا یہ مطلب نہیں تھا کہ پاکستان میں ہندوؤں کو زبردستی مسلمان بنایا جائے گا۔ پیر مانکی شریف میں قائداعظم نے علمائے کرام سے ملاقات میں کہا کہ آپ لوگ ہماری رہنمائی کریں، برصغیر کے مسلمانوں کو غلامی اور استحصال سے نجات دلانے کے لئے ایک علیحدہ وطن کا قیام ضروری ہے جس میں مسلمان اسلامی احکامات کے مطابق زندگی بسر کریں، قائداعظم پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے، موجودہ دور میں ریاست مدینہ کی بات کی جارہی ہے تو رسول اکرمؐ کی سیرت پر عمل کرنا ہوگا، آپؐ نے مدینے کی ریاست کے قیام سے قبل معاشرے کو تعلیم دی ان کی کردار سازی کی۔ قائداعظم اکیڈمی کراچی کے سربراہ خواجہ رضی حیدر کا کہنا تھا کہ یہ عجیب سی بحث ہے کہ قائداعظم ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے یا اسلامی ریاست، 1940ء سے 1948ء تک کی قائد کی تقاریر سے اندازہ ہوگا کہ وہ پاکستان میں کون سا نظام نافذ کرنا چاہتے تھے، قائد نے کبھی ریاست مدینہ کا ذکر نہیں کیا لیکن آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسوں اور اجلاس میں اسلام زندہ باد اور پاکستان کا مطلب کیا لالہ الہ اللہ کے نعرے لگائے جاتے تھے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اس لئے قائداعظم نئی مملکت کو اسلامی اصولوں اور قرآن کے احکامات کے مطابق ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ قائداعظم کی 11 اگست کی تقریر کو غلط انداز سے پیش کیا جاتا ہے، وہ پاپائیت کے خلاف تھے، اسلام کے آفاقی اصولوں پر کاربند رہنا چاہتے تھے، انہوں نے مغربی مفکرین کے ساتھ امام غزالی، ابن تیمیمہ اور ملا علی قاری کے اسلامی فلسفے کا مطالعہ کیا، قرآن پاک کا انگریزی ترجمہ پڑھا جس میں نیلی اور لال پنسلوں سے ترجمے کو انڈرلائن اور حاشیہ بھی لکھا، کراچی یونیورسٹی کی لائبریری میں وہ قرآن پاک موجود ہے، قائداعظم سوشل جسٹس چاہتے تھے، قرآن اور اسلامی احکامات کے مطابق نظام مملکت کا قیام چاہتے تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد کا کہنا تھا کہ دوقومی نظریہ کی بنیاد پر قائداعظم ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے جس میں غیرمسلموں کو بھی برابر کے حقوق حاصل ہوں، موجودہ دور میں ریاست مدینہ کا بہت ذکر ہورہا ہے، اگر نیتیں ٹھیک ہوں تو ریاست مدینہ کی طرز پر حکومت قائم کی جاسکتی ہے۔ معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر سید محسن نقوی نے کہا کہ اسلامی ریاست اور مسلمان ریاست میں فرق ہے، تحریک پاکستان کے وقت نیشن اسٹیٹ کا تصور تھا جسے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے آگے بڑھایا اور قائداعظم نے اسی کو اپناتے ہوئے حصول پاکستان کی جدوجہد کی، مدینے کی ریاست کی بات کی جائے تو بنی کریمؐ نے پہلے معاشرہ سازی کی پھر ریاست سازی کی طرف گئے، قائداعظم نے مسلمان فلاحی ریاست کا نظریہ پیش کیا تھا۔ جامعہ کراچی شعبہ تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم طحہٰ کا کہنا تھا کہ قائداعظم کی 11 اگست 1947ء کی تقریر اُن کے آئندہ کے نظام مملکت کی تشکیل کو واضح کرتی ہے، وہ ایک ویسٹرنائزڈ انسان تھے، ملائیت سے بیزار تھے اس لئے ایک فلاحی ریاست قائم کرنا چاہتے تھے، ضیاء الحق کے دور سے قائداعظم کی تقاریر کی غلط طریقے سے تشریحات کی جانے لگیں حالانکہ فروری 1948ء میں وائس آف امریکہ کے نمائندے سے انٹرویو میں قائداعظم نے کہا تھا کہ امریکا کے فیڈرل سسٹم کے مطابق اپنی مملکت کا خاکہ تشکیل دیں گے۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے سے درسی کتب میں قائداعظم محمد علی جناح کو حضرت اور رحمتہ اللہ علیہ لکھا جانے لگا، اس سے قبل صرف قائداعظم محمد علی جناح لکھا جاتا تھا، ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم شخصیت پرستی کا شکار ہوجاتے ہیں، قائداعظم نے مغربی اسلامی طرز حکومت اور اسلامی تعلیمات کا اچھی طرح مطالعہ کیا تھا وہ مذہبی ریاست کے بجائے اسلامی فلاحی ریاست چاہتے تھے۔ جامعہ کراچی شعبہ اصول دین کے پروفیسر ڈاکٹر زاہد علی زاہدی نے کہا کہ اُس وقت کے حالات کے مطابق قائداعظم نے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کے حصول کے لئے جدوجہد کی، چونکہ برصغیر کے مسلمان استحصال کا شکار تھے اس لئے ہندو اور مسلمان دو علیحدہ قومیں ہیں کا نظریہ پیش کیا گیا، آج کے دور میں مدینہ کی ریاست کا ذکر ہوتا ہے، یہ ریاست اب بھی قائم ہوسکتی ہے لیکن اس کے لئے قیادت کا دیانت دار ہونا ضروری ہے۔ نبی کریمؐ کے دور میں قبائلی معاشرہ تھا جو قوم اور ریاست میں تبدیل ہونے کے مراحل طے کررہا تھا، حضورؐ نے مدینہ میں آباد قبائل کے ساتھ میثاق کرکے مسلمانوں کی سیاسی بنیاد کو مستحکم کیا، اس سے مسلمانوں کی یہودیوں کے ساتھ کشیدگی کم ہوئی، اس میثاق کو تاریخی اہمیت حاسل ہوئی کیونکہ مسلمان جو مکہ سے آکر مدینے میں آباد ہوئے انہیں اپنے قدم جمانے کا موقع ملا۔ یہودی بعثت سے قبل دوردراز سے آ کر اس لئے آباد ہوئے کہ ان کے بزرگوں اور مذہبی رہنماؤں نے آخری رسولؐ کے آنے خبر دی تھی، کھجوروں کی سرزمین پر یہودی اس لئے آئے تھے کہ وہ رسول اکرمؐ کی مخالفت نہیں کرنا چاہتے تھے مگر بعد میں وہ سازشوں کا شکار ہو کر اسلام کی مخالفت پر اتر آئے۔ جس کے بعد مسلمانوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور آخری فتح پیغمبر اسلامؐ کو ہوئی جس کے بعد ریاست مدینہ کا قیام عمل میں آیا، اگرچہ ریاست کے مکمل خدوخال خلافتِ راشدہؓ کے دور میں سامنے آئے جس میں ایک شورائی نظام پروان چڑھا، پاکستان میں ریاست مدینہ کی طرز حکومت اُسی وقت نافذ ہوسکتی ہے جب نیتیں درست ہوں۔ مذاکرے کے میزبان رابطہ فورم انٹرنیشنل کے چیئرمین نصرت مرزا کا کہنا تھا کہ قائد کی 11 اگست کی تقریر میں ہندو اور مسلمان کا ذکر ہے، اس وقت ہندو اور مسلمانوں میں کشیدگی تھی جسے کم کرنے اور مذہبی فسادات سے روکنے کے لئے قائداعظم نے دونوں قوموں کا ذکر کیا، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ قائداعظم پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے، انہوں نے اپنی بیشتر تقاریر میں قرآن اور رسول کریمؐ کے اسوہ کا حوالہ دیا، قائداعظم ایک مسلم فلاحی ریاست کا قیام چاہتے تھے کیونکہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published.