رابطہ فورم انٹرنیشنل کے زیراہتمام سیمینار قائداعظم محمد علی جناحؒ۔۔ عظیم رہنما

قائداعظم کی بے باک قیادت کے بغیر وطن کا حصول ناممکن تھا، قائد نے مسلم لیگ کو اشرافیہ اور سرداروں سے نکال کر عوامی بنایا، قائداعظم نے اصولوں پر ہندوؤں اور انگریز حکمرانوں سے اختلاف کیا، ایک انگریز سیاح کو سزا دے کر قانون کی حکمرانی کی مثال بنائی، قانون کی حکمرانی اور جدید تعلیم کے بغیر ترقی ناممکن ہے، پاکستان کی سا لمیت اور بقا کیلئے عدل و انصاف ضروری ہے، قائداعظم کو کچھ زندگی مہلت دیتی تو کشمیر بھی آزاد ہوجاتا، قائداعظم کے وژن پر عمل ہوتا تو پاکستان مثالی ملک بن جاتا، پاکستان کو کامیاب ملک بنانا ہے تو دیانتدار قیادت کو آگے آنا ہوگا
رپورٹ: سید زین العابدین
رابطہ فورم انٹرنیشنل کی جانب سے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒکی 145 ویں یومِ پیدائش پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار سے رابطہ فورم انٹرنیشنل کے چیئرمین نصرت مرزا، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کے چانسلر میاں عبدالمجید، قائداعظم اکیڈمی کے سابق ڈائریکٹر خواجہ رضی حیدر، جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر معیز اے خان، معروف محقق محفوظ النبی خان، سابق سفیر سید حسن حبیب، وائس ایڈمرل (ر) آصف ہمایوں اور کشمیری رہنما سردار بابر عباسی نے خطاب کیا۔
نصرت مرزا (چیئرمین رابطہ فورم انٹرنیشنل)1857ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد برصغیر میں غلامی کا جو طوق مسلمانوں کی گردن میں پڑا تھا، اس کے بعد مسلمانوں کی زبوں حالی انتہا کو پہنچ گئی، ان حالات میں سر سید احمد خان نے مسلمانوں کے بقا کی تحریک چلائی، بعد اس کی قیادت قائداعظم محمد علی جناح نے کی، اگرچہ برصغیر میں تعلق، خلجی، ابدالی حکمران رہ چکے تھے، مغل تقریباً ساڑھے تین سو سال حکمران رہے، انگریزوں نے مغلوں سے حکمرانی چھینی تھی، 1876ء میں ایک کانفرنس ہوئی تھی جس میں مسلمانوں سے کہا گیا کہ وہ کانگریس میں شامل ہوجائیں لیکن سر سید احمد خان سمیت مختلف زمائے کرام نے اس کی مخالفت کی، سر سید احمد خان نے تعلیمی بدحالی سے نمٹنے کے لئے راجہ صاحب محمود آباد کی مالی مدد سے پہلے مدرسہ بنایا جو محمڈن اسکول اور کالج بنایا جو بتدریج علی گڑھ یونیورسٹی بن گیا اور مسلمانوں کی تحریک کا بنیادی مرکز قرار پایا۔ مسلمان ہندوؤں کے ساتھ مل کر رہنا چاہتے تھے لیکن ہندو رہنماؤں کی عصبیت مختلف مواقعوں پر کھل کر سامنے آتی رہی، وہ انگریزوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو زیرنگیں رکھنا چاہتے تھے جو مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ مسلمانوں کی تحریک کو ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے ایک فریم ورک میں ڈھالا جس کو کامیابی سے قائداعظم محمد علی جناح نے ہمکنار کیا اور ایک آزاد وطن کا قیام ممکن ہوا۔ قائداعظم نے مسلمانوں کے اتحاد کو ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح بنا دیا، گورنمنٹ ہائی اسکول پشاور میں 17 اپریل 1948ء میں خطاب کیا، انہوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ ایک خدا، ایک رسول ؐاور ایک قرآن پر مسلمانوں کا ایمان ہے، اس لئے ہمیں ہر قسم کے اختلافی معاملات ترک کرکے متحد رہنا چاہئے۔ 7 جنوری 1938ء کو میں کلکتہ میں عوام سے خطاب میں قائداعظم کا کہنا تھا کہ رسالت مآبؐ نے جب اپنی تحریک شروع کی تو وہ اکیلے تھے لیکن قرآن کی مدد سے انہوں نے چیلنج کا مقابلہ کرتے ہوئے مختصر وقت میں انقلاب برپا کردیا، اگر مسلمان یقین کی وہ قوت تنظیم، نظم و ضبط اور ایثار کی وہ طاقت حاصل کرلیں تو انہیں ساری دُنیا کی معاندانہ قوتوں سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ 25 جنوری 1948ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح کا کہنا تھا کہ اسلام نہ صرف رسم و رواج، روایات اور روحانی نظریات کا مجموعہ ہے، بلکہ اسلام ہر مسلمان کے لئے ایک ضابطہ بھی ہے جو اس کی حیات اور اس کے رویہ بلکہ اس کی سیاست و اقتصادیات وغیرہ پر محیط ہے۔ یہ وقار، دیانت، انصاف اور سب کے لئے عدل کے اعلیٰ ترین اصولوں پر مبنی ہے۔ 11 جنوری 1938ء میں گیا پٹہ کے جلسہ عام میں تقریر کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات عطا کرتا ہے۔ یہ صرف مذہب ہی نہیں ہے بلکہ اس میں قوانین بھی ہیں، فلسفہ بھی ہے اور سیاست بھی۔ درحقیقت اس میں وہ سب ہی کچھ ہے جس کا تعلق انسانی امور سے صبح سے رات تک ہوتا ہے۔ جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو ہمارا مطلب ہوتا ہے ایسا لفظ جو کل پر محیط ہو۔ہمارا مطلب کسی کے خلاف کینہ نہیں ہوتا۔ اسلامی ضابطے کی اساس یہ ہے کہ ہم حریت، مساوات اور اخوت کے قائل ہیں۔ 14 اگست 1947ء کو مجلس دستور ساز پاکستان کے افتتاح کے موقع پر تقریر میں عظیم شہنشاہ اکبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عظیم شہنشاہ اکبر نے تمام غیرمسلموں کے ساتھ رواداری اور حُسنِ سلوک کا مظاہرہ کیا۔ یہ کوئی نئی بات نہ تھی اس کی ابتدا آج سے 1300 برس پہلے ہی ہمارے پیغمبرؐ نے کردی تھی۔ آپؐ نے زبان سے ہی نہیں بلکہ عمل سے یہود و نصاریٰ پر فتح حاصل کرنے کے بعد نہایت اچھا سلوک کیا۔ ان کے ساتھ رواداری برتی اور ان کے عقائد کا احترام کیا۔ مسلمان جہاں کہیں بھی حکمران رہے ایسے ہی رہے۔ ان کی تاریخ دیکھی جائے تو وہ ایسے ہی انسانیت نواز اور عظیم المرتبت اصلوں کی مثالوں سے بھری پڑی ہے جن کی ہم سب کو تقلید کرنا چاہئے۔
میاں عبدالمجید (چانسلر نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی):1878ء میں الطاف حسین حالی نے اپنی مسدس کے مقدمہ میں مسلمانوں کی حالت زار کا تذکرہ یوں کیا، قوم کی حالت تباہ ہے، عزیز ذلیل ہوگئے ہیں، شریف خاکہ میں مل گئے ہیں، علم کا خاتمہ ہوچکا ہے، دین کا صرف نام باقی ہے، اخلاص کی گھر گھر پکار ہے، پٹ کی چاروں طرف دُھائی ہے، اخلاق بگڑ گئے ہیں اور بگڑتے جارہے ہیں، تعصب کی گھنگھور گھٹا قوم پر چھائی ہوئی ہے، رسم و رواج کی لڑی ایک ایک پاؤں میں پڑی ہے، جہالت اور تقلید سب کی گردن پر سوار ہے، امرا جو قوم کو فائدہ پہنچا سکتے تھے غافل و بے پرواہ ہیں، علما جن کا قوم کی اصلاح میں بہت بڑا دخل ہے زمانے کی ضرورتوں اور مصلحتوں سے ناواقف ہیں، آج یہی صورتِ حال ہے جو اس وقت تھی تو ان حالات میں قائداعظم کی قیادت میں مسلمانوں نے جدوجہد کی، ایک اصولی سیاست کرتے ہوئے محمد علی جناح نے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن حاصل کیا، قائداعظم پر اتنی تحریریں ہیں مگر عملی طور پر ان کا ہم پر اثر کیوں نہیں ہوتا، اس کی کوئی وجہ تو ہوگی اس کا جواب علامہ اقبال ؒکے شعر سے ملتا ہے:
عطّارؔ ہو، رومیؔ ہو، رازیؔ ہو، غزالیؔ ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحَرگاہی
علامہ اقبال نے یہ چار پلر بتائیں ہیں تو ان کی سمجھ بوجھ ہونی چاہئے، غزالی نے کہا تھا کہ

You, have baked me to relate the duties and counter in seeking the troth cofusion of containading seets seccend belief thath is Taglead with all the multiplicity of seats woriety of practices constitute ocean minorty reah safly cach seprate group thingks they are the right one.

یہ تجزیہ غزالی کا ہے تو آخر میں ایک چیز کہوں:
ترقی کی خاطر ہیں درکار ہم کو
امانت، دیانت، صداقت، ذہانت
میرے چار جانب قبضہ جمائے ہے جہالت، جہالت، جہالت، جہالت، اگر ہم نے قائداعظم ؒکے فرمودات پر عمل کرنا ہے اور اس ملک کو بچانا ہے اور ترقی کے منازل طے کرنا ہے تو علم کو اپنا کر جہالت کو دور کرنا ہوگا۔
خواجہ رضی حیدر (سابق ڈائریکٹر قائداعظم اکیڈمی)
قائداعظم کے بارے میں بعض سیکولر عناصر کہتے ہیں کہ وہ انگریزوں کے ایجنٹ تھے، یہ بات طالب علموں کے سامنے کہی جاتی ہے، دراصل لوگوں نے تاریخ کو درست تناظر میں نہیں دیکھا، ٹوٹے پڑھے، تسلسل سے تاریخ کے واقعات کا مطالعہ نہیں کیا، اس لئے وہ ایک غلط نظریے کا پرچار کرتے ہیں، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، 1896ء میں بمبئی ہائی کورٹ میں وہ دوبارہ رجسٹرڈ ہوئے، ان کی وکالت نہیں چل رہی تھی، ان دنوں ایک مجسٹریٹ کی ملازمت عارضی طور پر خالی ہوئی کیونکہ دستور نام کے وہ جج تین ماہ کی چھٹی پر جارہے تھے، قائداعظم نے وکالت کے چلنے تک اُس ملازمت کو اختیار کرلیا، پھر وہ مزید تین ماہ تک یعنی چھ ماہ تک مجسٹریٹ کی ملازمت پر رہے، ان چھ ماہ میں قائداعظم نے 72 کیسز کے فیصلے کئے یعنی 12 کیسز فی ماہ نمٹانے کی اوسط رہی جبکہ ہمارے ملک میں کیسز کی طوالت ایک لمحہ فکریہ ہے۔ قائداعظم کے پاس ایک انگریز سیاح کا مقدمہ آیا کہ اُسے ایک ہندوستانی سپاہی نے سیلوٹ نہیں کیا تھا کیونکہ اُس وقت رائج یہ تھا کہ انگریز کو دیکھ کر ہندوستانی سپاہی سیلوٹ کریں اور اس کے راستے میں کوئی شہری نہ آئے بلکہ راستہ چھوڑ کر اُسے جگہ دی جائے۔ اسی طرح ایک سپاہی کے خلاف انگریز سیاح کا مقدمہ آیا کہ اُس نے اُسے سیلوٹ نہیں کیا بلکہ ٹوکنے پر اُس نے سخت جواب بھی دیا، اس پر اُس انگریز نے اُسے مارا۔ اس کیس میں قائداعظم نے مسلسل تین دن تک اُسے سماعت پر عدالت میں بلایا پھر آخر میں اُسے عدالت کے برخاست ہونے تک محصور ہونے اور 10 روپے ہرجانے کی سزا سنائی، جس پر بمبئی کرونیکل نے ہیڈلائن لگائی کہ ہندوستان میں ایک انگریز کو سزا سنائی، اسی طرح 1944ء میں وویل سے ان کی ایک ملاقات تھی، وویل کی اہلیہ کی طبیعت ناساز تھی، قائداعظم نے لارڈ وویل سے مزاج پُرسی کی تو وویل نے کہا کہ کیا آپ میری اہلیہ سے ملنا پسند کریں گے، قائد نے کہا نہیں کیونکہ میں اس وقت کسی اور کام سے آیا ہوں، اُن کی مزاج پُرسی کے لئے پھر کسی وقت آؤں گا، اس اصول پسندی کو لارڈ وویل نے اپنے جرنل میں لکھا، یعنی قائداعظم اصول پسندی کے قائل تھے، اسی طرح انہوں نے ایمپریل کونسل میں لا ممبر کے خلاف جو سخت الفاظ استعمال کئے جس پر وہ احتجاج کرتا رہا کہ آپ اپنے الفاظ واپس لیں لیکن قائد نے اپنے الفاظ کو برحق سمجھتے ہوئے واپس لینے سے انکار کردیا۔
ہم لوگ بھلا کر تیرا پیغام اخوت
شرمندہ کھڑے ہیں تیری تصویر کے آگے
لندن ٹائمز کا ایک رپورٹر قائداعظم کے انٹرویو کے لئے رابطہ کررہا تھا، مطلوب الحسن سید قائد کے سیکریٹری تھے، وقت مل گیا تو جیمس کیمزون 1945ء میں انٹرویو کرنے آیا تو دوران گفتگو 2 منٹ کے بعد قائد کھڑے ہوئے اور معذرت کرکے اندر چلے گئے، جیمس کیمزون سمجھا کہ ان کی طبیعت خراب ہوگئی ہے، لیکن قائد نے دوبارہ آ کر اُسے بتایا کہ میری کفلنگ مجھے پریشان کررہی تھی میں اُسے ٹھیک کرنے گیا تھا۔ اس طرح وہ ایک باوقار شخصیت کے مالک تھے، قائداعظم شیئرز اور پراپرٹی کا کاروبار کرتے تھے، 1944ء میں قائداعظم نے کہا کہ تعلیم، ترقی یافتہ صنعت اور اخلاق، انصاف کا دامن نہیں پکڑیں گے تو ہم ترقی نہیں کرسکیں گے، اسی طرح 1946ء میں دلی میں پریس کانفرنس ختم ہوچکی تو ایک صحافی نے پوچھا کہ آپ شیعہ ہیں یا سنی؟ تو قائد کے چہرے پر ناپسندیدہ تاثرات آئے، انہوں نے جواب میں کہا کہ رسول اکرمؐ شیعہ تھے یا سنی، اس حتمی جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی فرقہ پرستی کے سخت مخالف تھے، وہ مسلمان قوم کو متحد دیکھنا چاہتے تھے۔
پروفیسر معیز اے خان (جامعہ کراچی)
قائداعظم محمد علی جناح اپنے سیاسی ہدف کے حوالے سے یکسو تھے، وہ دوراندیش رہنما تھے، 1905ء اور 1906ء سے انہوں نے عملی سیاست کا آغاز کانگریس پارٹی سے کیا، کلکتہ میں 20 دسمبر کو کانگریس کے اجلاس کی صدارت دادا بھائی نہرو جی کررہے تھے، قائداعظم ان کے پولیٹیکل سیکریٹری کی حیثیت سے کام کررہے تھے، اس اجلاس میں ایک قرارداد مسلمانوں کو علیحدہ کرنے کے حوالے سے پیش کی گئی تو قائداعظم نے اس پر اعتراض کیا اور مسلمانوں کے موقف کے مطابق ترمیم کروائی، پھر 10 اگست 1910ء میں وائسرائے کونسل میں بمبئی کے الیکشن میں جیتنے کے بعد شامل ہوئے تو اس میں قائداعظم نے انگریز سرکار کے ساؤتھ افریقہ کے شہریوں سے متعلق نامناسب رویے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تو وائسرائے نے اس پر یہ کہا کہ آپ نے ہمارے لئے سخت الفاظ کا استعمال کیا ہے تو قائداعظم نے فرمایا کہ میں نے مناسب الفاظ میں ایک غلط رویے کی نشاندہی کی ہے، اس وقت قائداعظم ایک نوجوان ہیں، 34 سال کی عمر ہے مگر بادشاہ پر تنقید کررہے ہیں۔ فروری 1919ء اور مارچ میں ایک رولٹ ایکٹ آیا جس میں ایک فلسفہ یہ تھا کہ نہ دلیل نہ وکیل یعنی کسی بھی ہندوستانی کو الزام لگا کر وضاحت کے بغیر گرفتار کرلیا جائے اور کوئی اس کی وکالت بھی نہ کرے، جب یہ بل پاس کروانے کے لئے کونسل میں آیا تو قائداعظم نے اس کی شدید مخالفت کی لیکن وہ کثرت رائے سے منظور ہوگیا پھر 1919ء میں ہی ایکٹ بھی پاس کردیا گیا کیونکہ اس کونسل میں انگریزوں کی اکثریت تھی، ہندوستان کے لوگ اقلیت میں تھے تو قائداعظم نے اس کونسل ہی سے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا، قائد نے کہا کہ غیرقانونی طریقے سے بل پاس کروانا ناقابل برداشت ہے، 1920ء میں تحریک خلافت کو کامیاب بنانے کے لئے گاندھی جی نے نان کوآپرٹیو موومنٹ کی تجویز دی تھی تو اس پر قائداعظم نے اس کے طریقہ کار سے اختلاف کیا اور کہا کہ اس سے نقصان ہوگا، اس پر وہ کانگریس کے رویے سے بھی مایوس ہوئے، 1928ء میں نہرو رپورٹ کے حوالے سے فروری میں کمیٹی بنی، جس میں سر علی امام اور شعیب قریشی مسلمانوں کی نمائندگی کررہے تھے، اختلافی رپورٹ پر ان دونوں حضرات نے دستخط بھی نہیں کئے، اس پر قائداعظم نے کانگریس رہنماؤں سے کہا کہ اس میں اقلیتوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھا گیا ہے، لہٰذا اسے شائع نہ کیا جائے، قائداعظم نے تین ترامیم پیش کیں کہ اگر یہ ہوجائے تو پھر بات آگے چل سکتی ہے، کانگریس نے اسے مسترد کردیا، اس پر قائداعظم نے کہا کہ دس اِس پارٹنگ آف دی ویزیعنی آج کے بعد مسلم لیگ اور کانگریس ایک ساتھ نہیں چل سکتے، یہ فیصلہ کن موقف بعد میں پاکستان کی صورت میں عملی شکل کو پہنچا، اسی طرح راؤنڈ ٹیبل کانفرنس، 1935ء کے ایکٹ 1937 ء کے انتخابات میں بھی دونوں پارٹیاں کبھی یکجا نہ ہوسکیں، پھر 1940ء کی قرارداد منظور ہونے کے بعد تو مسلمانوں نے اپنے لئے ایک واضح ہدف متعین کرلیا۔ اس طرح 14 نکات کو دیکھ لیں جس کے ذریعے ہندوستان کے مسلمانوں کے حقوق کے لئے انہوں نے ایک فریم ورک دیا، جب 1927ء میں سائمن کمیشن کی تشکیل کرنے والے لارڈ برکن ہیڈ کا یہ جملہ تھا کہ ہندوستان کے لوگ صرف آپس میں لڑ سکتے ہیں متفق نہیں ہوسکتے، اسی لئے سائمن کمیشن میں کسی ہندوستانی کو شامل نہیں کیا گیا تھا، اس کے خلاف پھر نہرو رپورٹ اور آل پارٹیز کانفرنس ہوئی، 1931ء میں قائداعظم ناراض ہو کر چلے گئے پھر 1934ء میں واپس آ کر پھر لیڈ کیا، 1937ء میں انتخابات ہوئے تو مسلم لیگ کا نام و نشان بنگال کے علاوہ ختم ہوچکا تھا، سندھ، خیبرپختونخوا میں کوئی نشست نہیں تھی جبکہ پنجاب میں صرف ایک سیٹ تھی جبکہ بنگال میں 250 میں سے 17 نشستیں تھیں، ان حالات میں 1937ء سے 1947ء کے 10 سالہ دور میں ایک علیحدہ وطن انہی صوبوں کی صورت میں قائم کروا لینا ایک بڑی کامیابی ہے۔ قائداعظم نے ہندوستان کے گلی کوچوں میں پارٹی کو منظم کیا، طلبا کو اکٹھا کیا، ڈے آف ڈیلورنس میں 22 دسمبر 1939ء میں جب کانگریس نے تمام وزارت سے استعفیٰ دیا، جس کے بعد مسلمانوں کے خلاف فسادات ہوئے، میرپور کمیٹی شریف کمیٹی میں اس بات کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان بننے میں کانگریس حکومت کے ان دو سالوں کا منفی کردار تھا، اُس وقت ایک عام مسلمان کو یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ کانگریس مسلمانوں سے تعصب پر مبنی سیاست کررہی ہے، ان کے مسائل کا حل آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے ہے، قائداعظم کی دوراندیشی اور بے باک قیادت کی وجہ سے مسلمانوں کو کامیابی حاصل ہوئی۔
محفوظ النبی خان (محقق)
قائداعظم ایک قانون و اصول پسند رہنما تھے، ایک مرتبہ اے جی پی آر کے ایک اسسٹنٹ نے جو آج بلایا 17 گریڈ کا افسر ہوتا ہے، اُس نے قائداعظم کے دستخط پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے ریکارڈ میں جو قائداعظم کا دستخط ہے، اُس سے نہیں ملتا، اس لئے پایبیل کو اُس نے واپس کردیا، قائداعظم اس اصول پسندی پر ناراض نہیں ہوئے بلکہ قانون و اصول پسندی کو سراہا، قائداعظم نے 24 اگست 1948ء کو اپنے آخری پایبیل پر دستخط کئے تھے جس کی ادائیگی چیک کی صورت میں 11 ستمبر کو قائداعظم کی وفات کے بعد ہوئی تو قائد ملت لیاقت علی خان نے اُسے وصول کیا کیونکہ وہ قائداعظم کے ٹرسٹی تھے پھر انہوں نے وہ مادر ِملت محترمہ فاطمہ جناح کو پیش کیا، اصول پسندی اور قواعد و ضوابط کی اس طرح پابندی ایک مثالی تھی، بریگیڈیئر نور احمد حسین ان کے اے ڈی سی تھے، وہ بھی بہت سے تاریخی واقعات کے گواہ ہیں جس کا انہوں نے اپنی تحریر میں ذکر کیا ہے، اسی طرح نیوی کے ایک کمانڈر مظہر بھی قائد کے سیکریٹری تھے۔ ایک جلسہ میں بینر لگا ہوا تھا جس پر لکھا تھا ملا تختِ سیاست محمد علی سے محمد علی کو یعنی محمد علی جوہر نے جو اصول پسندی کی سیاست کا آغاز کیا تھا، قائد اس کو عروج پر لے گئے، محمد علی جوہر نے خلافت موومنٹ پر جس طرح ترکی کا ساتھ دیا وہ آج بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ 1945-46ء کے انتخابات میں برصغیر کے مسلمانوں نے کھل کر اپنے الگ تشخص کا اظہار کیا، انتخابات مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کا حصول ممکن ہوا، داغ دہلوی نے کہا تھا:

اے گلستانِ بوستان رخصتاً ہندوستان
وہ چلے بہت دن تیری بدیسی مہمان
داغ اتنے بڑے شاعر تھے کہ حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال اپنی شاعری میں اصلاح لیا کرتے تھے۔ انگریزوں نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان واضح علیحدگی کو محسوس کرلیا تھا، اس میں تمام مسلمان اکابرین کی کاوشیں ہیں جو قائداعظم محمد علی جناح نے خطبہ الا آباد میں علامہ محمد اقبال نے کراچی کو برصغیر کے مسلمانوں کے لئے میٹروپولیٹن سٹی قرار دیا تھا یعنی اسے مسلمانوں کا مرکز قرار دیا تھا، اسی طرح قائد نے بھی 9 اگست اور 25 اگست 1947ء کو کراچی کی اہمیت و افادیت اور اس کی مرکزیت کا ذکر کیا تھا۔
وائس ایڈمرل (ر) آصف ہمایوں
قائداعظم کی قائدانہ صلاحیت اور اقدار ہمارے لئے مشعل راہ ہے، 1968ء میں ہمارے طالب علمی کے زمانے میں حکومت نے اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کو لازمی مضامین قرار دے دیا تو ہمارے طلبا نے ان دونوں کو نمبرز کے حصول کا ذریعہ سمجھ لیا، اس کی افادیت کو تسلیم نہیں کیا، قائد اتنے اصول پسند تھے کہ آج بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما ان پر کتابیں لکھ رہے ہیں کہ ان جیسا رہنما پورے ہندوستان میں کوئی نہیں تھا، 1940ء میں ان کا ڈاکٹر انہیں کہہ رہا ہے کہ آپ کلکتہ سے بمبئی کا طویل سفر کرکے آ رہے ہیں، آپ کے پھیپھڑوں میں ورم آ گیا ہے آرام کریں، لیکن قائد نے اسے نظرانداز کرکے پورے ہندوستان کے دورے کئے تاکہ علیحدہ وطن کی تحریک کو نتیجہ خیز بنایا جاسکے، قائد نے برصغیر کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ واضح کردیا کہ اس کا حل صرف ہندوستان کی تقسیم ہی ہے جبکہ ہندو رہنما اس کے شدید مخالف تھے، لارڈ ماؤنٹ بیٹن جب ہندوستان آئے تو انہوں نے واپس انگلستان جا کر کلیمنٹ ایٹلی کو یہ کہا کہ میں ہندوستان کی تقسیم کا منصوبہ پیش کرنے والا ہوں اور دونوں الگ ریاستوں کا میں گورنر جنرل بنوں گا، مسلمانوں کی ریاست کو انتظامی اور وسائل کے حوالے سے اتنا مفلوج کردوں گا کہ وہ متحدہ ہندوستان کا نعرہ لگانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ کلیمنٹ ایٹلی اس پر تیار ہوگئے لیکن قائداعظم نے جولائی 1947ء میں یہ کہہ دیا کہ مسلمانوں کی ریاست کا گورنر جنرل میں بنوں گا، اس طرح لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا یہ منصوبہ ناکام ہوگیا، لارڈ ماؤنٹ بیٹن اصول پسندی کی وجہ سے قائداعظم کو پسند نہیں کرتے تھے، قائد انتھک محنت کے قائل تھے، وہ بچپن سے ہی بہت محنتی تھے، ان کے کزن نے پوچھا کہ کیوں اتنی محنت کررہے ہو تو وہ کہتے تھے کہ مجھے بہت بڑا آدمی بننا ہے، وہ بعد میں ایک بڑے وکیل بھی بنے، 1930ء سے 1934ء کے دوران سے وہ امیری کونسل میں وکالت کرتے رہے، محترمہ فاطمہ جناح اور ان کی اہلیہ رتی جناح ان کے ساتھ رہتی تھیں، قائد لندن کے مہنگے علاقے میں رہتے، شوفر ڈروین بلنڈری کا ران کے پاس تھے لیکن جب پاکستان کے گورنر جنرل بنے تو کیفے گرینڈ سے ڈبل روٹی آتی تھی تو وہ دو آدمیوں کے لئے بڑی ہوتی تھی، انہوں نے کیفے گرینڈ کو لکھا کہ کیا ہمیں چھوٹی ڈبل روٹی مل سکتی ہے کیونکہ زیادہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہوجاتی ہے، کیفے گرینڈ نے ڈبل روٹی کا سائز چھوٹا کردیا جو آج بھی وہاں موجود ہے، بہت کم لوگ تاریخ کا دھارا موڑتے ہیں، اس سے کم لوگ دنیا کا نقشہ بدلتے ہیں، بہت کم لوگ ایسے ہیں جو ایک قوم کے لئے اسٹیٹ حاصل کرلیتے ہیں اور قائداعظم نے یہ تینوں کام ایک ہی زندگی میں کئے، قائداعظم بہت بڑے رہنما تھے۔
سید حسن حبیب (سابق سفیر)
لکشمی پنڈت نے کہا تھا کہ اگر ہمارے پاس ایک قائداعظم ہوتے تو کبھی ہندوستان کی تقسیم نہیں کرنے دیتے، اسی طرح لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کہا تھا کہ اگر مجھے محمد علی جناح کی بیماری کا علم ہوتا تو میں ہندوستان کی تقسیم میں تاخیر کردیتا، محمد علی جناح کے بعد مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کا حصول ناممکن ہوجاتا، ایک انگریز مفکر نے کہا تھا کہ قائداعظم پیغمبر یا ولی نہیں تھے لیکن کام انہوں کچھ ایسے ہی کئے۔ قائداعظم مسلم لیگ کے حوالے سے اگر کوئی حکم دیتے تھے تو اس کی روح کے مطابق اس پر عمل درآمد کرواتے تھے، وہ ڈسپلن کے بڑے قائل تھے، خود بھی پابندی کرتے تھے، وہ ایک دوراندیش رہنما تھے، یہی دوراندیشی تھی جس کے باعث وہ مسلمانوں کے مستقبل کو دیکتے ہوئے ایک علیحدہ وطن کا حصول ضروری سمجھتے تھے۔ سرکاری خزانے کی امانت کا یہ حال تھا کہ وزراء کو چائے بھی پیش نہیں کی جاتی تھی۔ قائداعظم کوئٹہ میں فوجی افسران سے خطاب کررہے تھے تو کچھ افسران نے سوالات کئے، قائد کو ناگوار گزرا، انہوں نے کہا آپ کا کام صرف ملک کی حفاظت کی ذمہ داری ہے، آئین و قانون کی پابندی آپ پر لازم ہے، لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہماری سیاسی تاریخ آئین و قانون کی پامالی سے بھری ہوئی ہے، قائد کی ذاتی زندگی بھی تحریک پاکستان کی وجہ سے متاثر ہوئی، وہ اپنی اہلیہ کو وقت نہیں دے پاتے تھے، قائداعظم ایک خوجہ خاندان میں پیدا ہوئے تھے، وہ شیعہ سنی کی فرقہ بندی کو پسند نہیں کرتے تھے وہ ایک باعمل مسلمان تھے۔
سردار بابر عباسی (کشمیری رہنما)
دراصل ہمیں ملک ایک تحفے کے طور پر ملا ہے، جدوجہد تو اکابرین اور اُس دور کے مسلمانوں نے کی، آج کے پاکستانی کو اُن مشکلات و زحمتوں کا ادراک نہیں ہے، آزادی کی نعمت تو کشمیریوں سے پوچھیں جو آج بھی بھارتی تسلط سے آزادی کے لئے جانیں دے رہے ہیں، روزانہ نوجوان، بزرگ شہید ہورہے ہیں، قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کہ شہ رگ کہا تھا، اگر قائد زندہ ہوتے تو وہ کشمیر کو آزاد کروا لیتے لیکن بدقسمتی سے ان کی رحلت جلدی ہوگئی، موجودہ دور میں پاکستان میں کشمیر کمیٹی کے سربراہان صرف دعوے کرتے ہیں، مولانا فضل الرحمن بڑی مدت تک سربراہ رہے لیکن کیا کرسکے اب شہریار آفریدی ہیں، وہ کیا کررہے ہیں آپ سب جانتے ہیں، کشمیر پر کام کرنے کے بجائے وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جس کے بعد انہیں بھاگنا پڑتا ہے، یہ ہیں ہمارے آج کے رہنما اور ایک قائداعظم تھے جن کی امانت، دیانت، اصول پسندی کو مخالفین بھی تسلیم کرتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.