رابطہ فورم انٹرنیشنل کے زیراہتمام سیمینار ’’بھارتی بین البراعظمی بلیسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم اور خطے پر اس کے اثرات‘‘

بھارت خطے میں بالادستی حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے، وائس ایڈمرل (ر) سید عارف اللہ حسینی

ایس 400 ڈیفنس سسٹم پر بھارت ساڑھے پانچ ارب ڈالر خرچ کررہا ہے مگر حاصل کچھ نہیں ہوگا، بریگیڈیئر (ر) ایڈگرافلکس

ایس 400 ڈیفنس سسٹم خامیوں سے مبرا نہیں ہے، پاکستان متبادل نظام پر کام کررہا ہے، نصرت مرزا

بھارت 2020ء جارحیت کی وجہ سے دونوں ملکوں میں جنگ کا سال ہوسکتا ہے، پروفیسر عدنان فاروقی

امریکی اشارے پر بھارت جدید اسلحہ کے حصول کے ذریعے خطے میں بالادستی چاہتا ہے، سید سمیع اللہ

رابطہ فورم انٹرنیشنل کی جانب سے کراچی کے مقامی ہوٹل میں بھارتی بین البراعظمی بلیسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم اور خطے پر اس کے اثرات کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ وائس ایڈمرل (ر) سید عارف اللہ حسینی نے کہا کہ بھارت اسلحہ کی دوڑ جاری رکھنا چاہتا ہے، بھارت جدید اسلحہ کے حصول کے ذریعے خطے میں بالادستی چاہتا ہے، بھارت اسلحہ کے زور پر اپنی طاقت منوانا چاہتا ہے، اس کا ہدف پاکستان ہے لیکن ہم بھارتی عزائم کو ماضی میں بھی خاک میں ملا چکے ہیں اور آئندہ بھی ایسا ہی کریں گے۔ بریگیڈیئر (ر) ایڈگرافلکس نے کہا کہ بھارت نے رواں برس اکتوبر میں روس سے ایس 400 کا ڈیفنس ایئر سسٹم کا معاہدہ کیا ہے، بھارت میں غربت انتہا پر ہے لیکن مودی سرکار نے ساڑھے پانچ ارب ڈالر کا یہ معاہدہ کیا، بھارت خطے میں بالادستی کا خواب دیکھ رہا ہے، وہ جدید اسلحہ کے حصول کے ذریعے خطے کی تزویراتی اہمیت کو اپنے حق میں موڑنا چاہتا ہے، امریکہ بھارت کے اس جنونی اقدام کو نظرانداز کررہا ہے، بھارت کا بین البراعظمی میزائل سسٹم اپنے روایتی حریفوں کیلئے نہیں بلکہ اس کے عزائم کچھ اور ہیں، پاکستان اپنے دفاع سے غافل نہیں ہے، کم وسائل کے باوجود ہم اپنی سلامتی کیلئے اقدامات کررہے ہیں، روس یہ دفاعی نظام ہمیں بھی دے سکتا ہے، ہماری سیاسی و عسکری قیادت جب یہ محسوس کرے گی کہ یہ ڈیفنس سسٹم ہماری سلامتی کیلئے ضروری ہے تو ہم بھی اسے حاصل کرلیں گے، پاکستان بھارت کے تمام عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے تیار ہے، دشمن ہمیں کمزور سمجھ کر غلطی کرے گا جس کا خمیازہ وہ اچھی طرح بھگتے گا، بھارت اپنی تینوں افواج کو جدید اسلحہ فراہم کررہا ہے تاکہ پاکستان پر اچانک حملہ کیا جائے لیکن دشمن جب بھی ایسا کرے گا پچھتائے گا۔ 5 اکتوبر 2018ء کو نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایس 400 فضائی دفائی نظام پر دستخط کئے جس کے تحت روس اپنا یہ دفاعی نظام 2030ء تک بھارت کے حوالے کردے گا جبکہ بھارت 5.5 ارب ڈالر کی ادائیگی کرے گا، بھارت کی خواہش ہے کہ معاہدے کے بعد 2 سال کے اندر ایس-400 کا پہلا حصہ روس فراہم کردے جبکہ اس روسی دفاعی نظام کے خالق الماز انٹے کا موقف تھا کہ معاہدے کی رقم میں سے 15 فیصد ادائیگی کے بعد ہی اس سسٹم کو دینے کا مرحلہ شروع ہوگا۔ ایس-400 جدید ترین اور موجودہ دور کا بہترین فضائی دفاعی نظام ہے، نیٹو کے تحت اسے (گروولرس ایساے-21) کہا جاتا ہے، اس دفاعی نظام کے حصول کے بعد بھارت کو خطے میں واضح عسکری برتری حاصل ہوجائے گی، یہ نزدیک اور دور سے نشانہ بنانے والے ہر قسم کے میزائل کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کے ساتھ یہ فضا، زمین اور سمندر میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ 400 کلومیٹر تک اپنے ٹارگٹ کو ہدف بنا سکتا ہے جبکہ حملے کی صورت میں 30 کلومیٹر قبل یہ کسی بھی میزائل کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ کم سے کم وقت میں اپنے اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے، ساتھ ہی دفاع بھی کرسکتا ہے، یہ اتنا کارآمد نظام ہے جو 5 میٹر کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچ سکتا ہے، یہ بلیسٹک میزائل کو 4.8 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے اپنے ہدف کی طرف بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ برقی جنگ الیکٹرونک وارفیئر ایئر کرافٹ) تزویراتی اسلحہ، ٹیکٹیکل لڑاکا طیاروں، جنگی طیاروں، کروز میزائل، ٹیکٹیکل بلیسٹک میزائل جو کم فاصلہ، درمیانی فاصلہ یا دور مار کے ہوں انہیں روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ 36 ممکنہ اہداف پر کامیابی سے میزائل فائر کرسکتا ہے، 8 سے 12 وہیکلز میں اسے جوڑا جاسکتا ہے، ہر وہیکل پر 4 ہولڈنگ ٹیوبز سے ہر قسم کے میزائل کو داغا جاسکتا ہے، ایس-400 بیٹری خودکار نظام کے تحت کام کرتی ہے، اس کا رڈار سسٹم اپنی طرف بڑھنے والے جنگی طیاروں، کروز میزائل گائیڈیڈ میزائل، ڈرون طیاروں اور بلیسٹک راکٹس کو 600 کلومیٹر قبل ہی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بھارت کے اس جدید دفاعی فضائی نظام کے حصول کے بعد پاکستان کیلئے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ روایتی حریف کی ممکنہ جارحیت سے نمٹنے کیلئے اقدامات کرے۔ پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد نے کہا کہ بھارت ابتدا ہی سے جارحانہ عسکری پالیسی پر گامزن ہے، اس کا ہداف پاکستان ہے، حالیہ روس اور بھارتی دفاعی معاہدے سے خطے پر منفی اثرات پڑیں گے، اگرچہ روس نے پاکستان کو بھی پیشکش کی ہے کہ وہ بھی ایس-400 حاصل کرسکتا ہے، پاکستان اپنے دفاع سے کسی صورت غافل نہیں رہ سکتا کیونکہ بھارت کا ہدف یہ ہے کہ وہ خطے میں بالادستی حاصل کرے وہ پاکستان کے علاوہ چین پر بھی عسکری برتری چاہتا ہے، ایس-400 کے حصول کے بعد بھارتی عسکری طاقت بہت زیادہ بڑھ جائے گی، امریکہ نے روس اور بھارت کے اس دفاعی معاہدے سے صرفِ نظر کیا ہے حالانکہ روس کے خلاف امریکہ نے پابندی لگائی ہے کہ کوئی ملک اس سے دفاعی ہتھیار نہ خریدے مگر بھارت کے معاملے میں امریکہ آنکھیں بند کرلیتا ہے کیونکہ بھارت کی شکل میں اُسے خطے میں اپنا ایک ایجنٹ چاہئے جو پاکستان کے ساتھ چین کے خلاف بھی استعمال ہوسکے گا۔ رابطہ فورم انٹرنیشنل کے چیئرمین نصرت مرزا کا کہنا تھا کہ بھارت نے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن پر 20 ارب ڈالر خرچ کردیا، بھارت کا دعویٰ تھا کہ پاکستان کے بیرکس میں اچانک حملہ آور ہوں گے، ہم نے ٹیکٹیکل وار ہیڈز کے ذریعے جواب دے دیا، فرانس سے رافیل طیاروں کی خریداری میں کرپشن کا اسکینڈل سامنے آیا، بھارت اپنی افواج کو سرحدوں پر منظم کررہا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت پاکستان پر کسی بھی وقت حملہ آور ہوسکتا ہے، ایس 400 کا حصول بھارت کی جارحیت کی علامت ہے، اس کا ہدف پاکستان اور چین ہیں، ایس 400 کروز میزائل کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ہمارے دفاعی ماہرین اس نظام کی خامیوں سے آگاہ ہیں اس لئے مودی سرکار اپنے عوام کو خودفریبی میں نہ رکھیں کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب مل جائے گا۔ جامعہ کراچی کے پروفیسر عدنان فاروقی نے کہا کہ بھارت ایک انتہاپسند ملک بنتا جارہا ہے جہاں مسلمانوں کو قتل اور عیسائیوں کو زندہ جلایا جارہا ہے، کشمیر کی صورتِ حال آپ کے سامنے ہے لیکن عالمی طاقتیں ان زیادتیوں کے باوجود بھارت سے بازپرس نہیں کرتیں، بھارت اس کے ساتھ جدید اسلحہ کی دوڑ شروع کرکے بھی خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے، ایس 400 کے ساتھ راجھستان میں فوجی اڈہ تعمیر کیا ہے، لداخ میں بھی قائم کرچکا ہے، بھارت کے اقدامات اس بات کو درست ثابت کرسکتے ہیں کہ 2020ء میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہوسکتی ہے جو تیسری عالمی جنگ چھڑ جانے کی وجہ بھی بن سکتی ہے، بھارت پہلے ہی ہائی برڈ وار شروع کرچکا ہے۔ بھارت کو جدید عسکری دفاعی نظام کی ضرورت اس لئے پیش آرہی ہے کہ اسے ایئربیس کی کمی کا سامنا ہے، بھارت کا 60 فیصد رقبہ ایئربیس سے عاری ہے یعنی اگر ان 60 فیصد بھارتی علاقوں پر فضائی حملہ ہو تو بھارتی ایئرفورس اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی، بھارت کے پاس اس وقت 300 لڑاکا جنگی طایرے ہیں جسے وہ مزید بڑھانا چاہتا ہے، بھارت میں جنگی تربیتی طیارہ گرنے کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے، آزادی حاصل کرنے سے اب تک بھارت کے 1300 تربیتی طیارے دوران پرواز گر کر تباہ ہوچکے ہیں، ان اعدادوشمار سے بھارتی فضائیہ کی صلاحیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، بھارت خطے میں عسکری برتری حاصل کرنا چاہتا ہے اس کا ہدف پاکستان اور چین ہے لیکن اس کے بین البراعظمی میزائل کن ممالک کیلئے خطرہ ہیں اس پر عالمی طاقتوں کو غور کرنا چاہئے۔ سید سمیع اللہ نے کہا کہ بھارت اپنے ایئر بیس کی کمی کو پورا کرنے کیلئے میزائل سسٹم پر توجہ دے رہا ہے، ایس 400 کا حصول بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، امریکہ، جاپان، آسٹریلیا کے ساتھ بھارت کا بھی دفاع کررہا ہے، مودی منتخب ہونے کے بعد ایک ایک ہفتے تینوں افواج کے ساتھ رہے۔ 1989ء میں بھارت نے جدید میزائل سسٹم کے حصول کا منصوبہ شروع کیا، بھارتی حکمرانوں نے 40 کمپنیز کو (ڈی آر ڈی او) ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے تحت میزائلوں کی تیاری پر لگایا، 2012ء میں ڈی آر ڈی او کے سربراہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم میزائل سسٹم کے فیز II میں داخل ہوچکے ہیں، بھارت خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کیلئے جدید ہتھیاروں کے حصول میں لگا ہوا ہے حالانکہ دنیا میں غربت کی سب سے زیادہ شرح بھارت میں پائی جاتی ہے جہاں تقریباً 90 کروڑ افراد غربت کی سطح سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، کروڑوں افراد باتھ روم کی سہولت سے محروم ہیں، ان محرومیوں کے باوجود بھارتی حکمران خطے میں بالادستی حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.